خطے میں کشیدہ صورتحال، پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر کتنے دن کے لیے موجود ہیں؟ تفصیل سامنے آگئی

خطے میں کشیدہ صورتحال، پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر کتنے دن کے لیے موجود ہیں؟ تفصیل سامنے آگئی

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے پاس ملک کے 28دنوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر مقدار میں ذخائرموجود ہیں اور یہ اضافی ایندھن کی بروقت درآمدسے ممکن ہوا۔

 تاہم امریکا ، اسرائیل ور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے خام تیل کے دو کارگو پھنس گئے قریباً 33 کلومیٹر چوڑی اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ گزشتہ سال یہاں سے یومیہ اوسطاً 2 کروڑ بیرل خام تیل، کنڈنسیٹ اور دیگر ایندھن منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ تبدیلیاں

 اوپیک (او پی ای سی) کے ممبران ممالک جن میں سعودیہ، ایران، متحدہ عرب امارات،کویت اور عراق شامل ہیں۔ایشائی منڈیوں تک اپنی خام تیل کی برآمدات کے لیے اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں پیڑول اور ڈیزل کی وافر مقدار موجود ہے اور موجودہ حالات 28 دن تک ملکی طلب پوری کی جا سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر جنوری میں 25 دن اور فروری میں 28 دن سے زیادہ کے ذخائر یقینی بنائے گئے ۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث 2 خام تیل کے کارگو دیر سے پہنچنے کا امکان ہے جبکہ دیگر درآمدات شیڈول پرمتوقع ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ ایک ہفتے سے زیادہ جاری رہی تو عالمی سطح پر تیل کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

 اس سے قبل پیڑولیم ڈویژن نے اوگرا کو ہدایت کی تھی کہ خام تیل اور پیڑولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر یقینی بنائے جائیں تاکہ سپلائی میں کوئی کمی نہ آئے۔ خلیجی صورتحال کے پیش نظر پیڑول، ڈیزل اور ایل پی جی کی درآمدات کی کڑی نگرانی بھی جاری ہے۔

 حکومت نے جمعہ کو قوم کو یقین دہانی کرائی کہ ملک میں خام تیل اور پیڑولیم مصنوعات کے ذخائر کافی ہیں اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ یقین دہانی وفاقی وزیر پیڑولیم علی پرویز ملک اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی مشترکہ زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کرائی گئی۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا خدشہ، شہباز شریف کا ہنگامی قدم، کڑی نگرانی کے لیے 18 رکنی کمیٹی قائم

 اس موقع پر اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ تیل کی ادائیگیوں میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی، جس سے ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی درآمدی سرگرمینواز شریفاں بغیر رکاوٹ جاری رہیں گی۔

  دوسری جانب عالمی منڈی میں سپلائی خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ او پی ای سی خطے میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر اپریل کے مہینےمیں یومیہ 4 لاکھ 11 ہزار بیرل تک پیداوار بڑھانے پر غور کر رہا ہے، جو پہلے متوقع اضافے (1 لاکھ 37 ہزار بیرل یومیہ) سے 3 گنا زیادہ ہے

 سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی ممکنہ رکاوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کر دیا ہے۔ فروری میں سعودی عرب کی برآمدات تقریباً 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ اپریل میں متحدہ عرب امارات کی مربان خام تیل کی برآمدات میں بھی اضافہ نظرآرہا ہے۔ عراق، کویت اور یو اے ای کی مشترکہ برآمدات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

 پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بلندی دیکھی گئی اور برینٹ کروڈ کی قیمت عارضی طور پر 82 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئی، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *