ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین میزائل حملوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کی تل ابیب میں واقع خاندانی رہائش گاہ کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے نے نہ صرف اسرائیل کے دفاعی غرور کو خاک میں ملا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، تل ابیب کا آسمان ایرانی میزائلوں کی روشنی سے بھر گیا تھا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متعدد ایرانی میزائلوں نے نتن یاہو کی رہائش گاہ اور اس کے گردونواح کے انتہائی حساس زون کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل کا جدید ترین ‘آئرن ڈوم’ اور ‘ایرو’ سسٹم ان میزائلوں کی بڑی تعداد کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں شہر کے مرکز میں زوردار دھماکے سنے گئے۔
حملے کے بعد رہائش گاہ کے قریبی علاقوں سے آگ کے بلند شعلے اور دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔ تاحال وزیراعظم یا ان کے اہلخانہ کے حوالے سے حتمی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، تاہم انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے تھے کہ ایران کی عسکری طاقت ختم ہو چکی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اسے “آپریشن قصاص” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی امریکی و اسرائیلی کوششوں کا کرارا جواب ہے۔
مزید جانیئے: ایران کے جوابی حملوں سے تل ابیب لرز اٹھا: خوفناک تباہی کے تازہ مناظر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

