عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل کمی کے بعد گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جس کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کم ہو کر تقریباً 72.55 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 69.37 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے. مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی اور سپلائی کے خدشات کم ہونے کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد پاکستان میں ماضی کی نسبت کم نرخوں کی بحالی کا امکان بھی واضح ہو گیا ہے تاہم اگر پرانی قیمتیں مکمل طور پر بحال نہ بھی کی جائیں تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی موجودہ سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 10 سے 15 روپے تک کمی کی گنجائش موجود ہے۔
اگر حکومت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی یا دیگر محصولات میں اضافہ نہیں کرتی اور موجودہ شرح برقرار رکھتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں آنے والی کمی کا خاطر خواہ فائدہ عوام تک منتقل کیا جا سکتا ہے ایسی صورت میں فی لیٹر 15 روپے فی لیٹر کمی ہوسکتی ہے اس حوالے سے اوگرا میں ابتدائی پیپر ورک تیار کر کے قیمتوں میں کمی کی سفارش کیلئے بات چیت جاری ہے ۔
ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آج شام تک عالمی مارکیٹ کے تازہ نرخوں درآمدی لاگت ایکسچینج ریٹ اور ٹیکسوں کی بنیاد پر اپنی ورکنگ مکمل کرکے سمری وزارت خزانہ کو ارسال کرے گی۔
وزارت خزانہ اوگرا کی سفارشات اور مالیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد حتمی سمری وزیراعظم کو منظوری کے لیے بھجوائے گی جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کے حوالے سے آخری فیصلہ کیا جائے گا۔
عوام اور کاروباری حلقوں کی نظریں اب حکومت کے آئندہ اعلان پر مرکوز ہیں جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ نمایاں کمی کے باعث اس مرتبہ صارفین کو قابل ذکر ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔