ایک طرف خیبر پختونخوا حکومت ’تعلیمی ایمرجنسی‘ اور ’تعلیم سب کے لیے‘ کے بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے، تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے اپنے آبائی ضلع خیبر سے آنے والی تصاویر نے ان دعوؤں کی حقیقت کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
21 ویں صدی کے اس جدید دور میں، جہاں دنیا ٹیکنالوجی کے عروج پر ہے، ضلع خیبر کے بچے جھلسا دینے والی دھوپ میں دھول و مٹی میں زمین اور کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
وائرل ویڈیو اور بچوں کی دہائی
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے پورے صوبے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معصوم طلبہ تپتی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور ان کے ’پھول نما چہرے‘ گرمی کی شدت سے کملا رہے ہیں۔
ویڈیو میں بچوں نے حکمرانِ وقت سے دل دہلا دینے والی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ’انتہائی سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے بیٹھنا ہمارے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے‘، حکومت سے التجا ہے کہ ہمارے اسکول کی عمارت تعمیر کی جائے تاکہ ہم بھی سکون سے پڑھ سکیں‘۔
حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے کئی بچے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ اساتذہ بھی چھت کی عدم موجودگی میں فرائض کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال وزیر اعلیٰ کے اس آبائی علاقے کی ہے جہاں ترقیاتی کاموں کی رفتار سب سے زیادہ ہونی چاہیے تھی۔
ضلع خیبر کے تعلیمی مسائل
ضلع خیبر سابقہ فاٹا (قبائلی علاقہ جات) کا حصہ رہا ہے جہاں طویل عرصے تک تعلیمی ڈھانچہ بری طرح متاثر رہا ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ قبائلی اضلاع میں اربوں روپے کے فنڈز سے اسکولوں اور کالجوں کی تعمیرِ نو کی جائے گی، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ فنڈز کا ایک بڑا حصہ اب بھی فائلوں تک محدود ہے یا ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو رہا ہے۔
بلند بانگ دعوے بمقابلہ تلخ حقیقت
یہ واقعہ خیبر پختونخوا کی تعلیمی پالیسی پر کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، اگر حکومت اپنے وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع میں ایک بنیادی اسکول کی چھت فراہم نہیں کر سکتی، تو دور افتادہ علاقوں کے حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
وائرل ویڈیو نے ثابت کر دیا ہے کہ اب حکومتی کارکردگی کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ ڈیجیٹل دور میں عوام براہِ راست حکمرانوں کا احتساب کر رہے ہیں۔
سخت موسم کی وجہ سے اسکولوں میں حاضری کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈراپ آؤٹ ریٹ بڑھتا ہے اور ’تعلیم سب کے لیے‘ کا وژن محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔