پشاور میں واقع معروف تعلیمی ادارے آئی ایم سائنسز میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی تقریب میں پختون ڈیجیٹل سے وابسہ خاتون صحافی کو تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا ۔ واقعہ پر صحافتی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مذکورہ تقریب میں میڈیا کو باقاعدہ کوریج کے لیے مدعو کیا گیا تھا، تاہم تقریب کی کوریج کے لئے جانے والی پختون ڈیجیٹل کی خاتون رپورٹر رانی عندلیب کو وزیراعلیٰ کے سکیورٹی سٹاف نے رپورٹنگ سے روک دیا۔
واقعہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانی عندلیب نے بتایا کہ انہیں نہ صرف ہال کے اندر کوریج کرنے سے روکا گیا بلکہ بعد ازاں ہال کے باہر بھی ریکارڈنگ کرنے سے منع کیا گیا۔ خاتون صحافی نے بتایا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کی صورتحال پر سوال کیا، تو اس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے ان کی کوریج کو محدود کر دیا۔
رانی عندلیب نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی جمہوری اقدار اور نوجوانوں کے لیے آزادی کے دعوے کرتی ہے تو اس طرح کے اقدامات یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ یہ کیسی آزادی ہے۔
اس واقعے پر صحافتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔