نظامِ شمسی کے دور دراز حصے میں پلوٹو سے بھی آگے ایک ننھی اور پراسرار دنیا نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ جاپانی ماہرین فلکیات کے مطابق اس برفیلی جسم کے گرد ایک نہایت باریک فضا کے آثار ملے ہیں، جو اب تک ناممکن سمجھے جاتے تھے۔
اگر اس دریافت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو تقریباً 500 کلومیٹر چوڑا یہ جسم کوئپر بیلٹ میں پلوٹو کے بعد دوسرا ایسا جرم ہوگا جس کے گرد فضا موجود ہے۔
یہ مشاہدات اس وقت سامنے آئے جب محققین نے (612533) 2002ایکس وی 93 نامی دور دراز جسم کا جائزہ لیا جو زمین کے مقابلے میں سورج سے تقریباً 40 گنا زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ جنوری 2024 میں جب یہ جسم ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرا تو ماہرین نے دیکھا کہ ستارے کی روشنی فوراً واپس نہیں آئی جس سے عندیہ ملا کہ کوئی باریک فضا روشنی کو جزوی طور پر روک رہی ہے۔
جو سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی تحقیق کےمطابق اس دنیا کی فضا زمین کے مقابلے میں 50 لاکھ سے ایک کروڑ گنا تک پتلی ہو سکتی ہے۔
کو اریماتسوجو نیشنل آسٹرونومیکل آبزرویٹری آف جاپان سے وابستہ ہیںان کا کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ نظامِ شمسی کے بیرونی حصوں میں موجود چھوٹے برفیلے اجسام غیر فعال اور غیر متحرک ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فضا ممکنہ طور پر برفیلی آتش فشانی سرگرمی کے باعث بنی ہو سکتی ہے یا پھر کسی دمدار ستارے کے ٹکرانے سے گیس خارج ہوئی ہو۔ تاہم کچھ سائنسدان اس نتیجے پر محتاط ہیں اور متبادل وضاحت کے طور پر اس جسم کے گرد حلقے (رِنگ) کی موجودگی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔