پلاسٹک آلودگی کا حل؟ چین کی نئی ٹیکنالوجی سامنے آگئی

پلاسٹک آلودگی کا حل؟ چین کی نئی ٹیکنالوجی سامنے آگئی

چین کے سائنسدانوں نے بانس سے تیار کردہ ایک ایسا نیا مواد تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو طاقت کے لحاظ سے عام پٹرولیم بیسڈ پلاسٹک کے برابر ہے، جبکہ یہ صرف تقریباً 50 دن میں مکمل طور پر گل سڑ کر ختم ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں پلاسٹک آلودگی ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے اور متبادل مواد کی تلاش تیزی سے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں :قدیم دور سے آج تک، تانبا کیوں پہنا جاتا رہا؟

بانس کو اس تحقیق میں خاص اہمیت دی گئی ہے کیونکہ یہ نہ صرف تیزی سے اگتا ہے بلکہ بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی جذب کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ماحول دوست مواد بنانے کے لیے ایک مضبوط ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔

ابتدائی لیب ٹیسٹس کے مطابق یہ نیا مواد روایتی پلاسٹک جیسی مضبوطی اور پائیداری رکھتا ہے، تاہم ماحول میں چھوڑے جانے کے بعد یہ بہت کم وقت میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج اسے بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار میں لانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پلوٹو سے آگےکی دنیا، خلا میں حیران کن دریافت

سائنسدانوں کے مطابق ابھی اس مواد کی حقیقی کارکردگی، لاگت، اور مختلف حالات میں بایو ڈی گریڈ ہونے کی صلاحیت پر مزید تحقیق ضروری ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے عالمی سطح پر اپنائی گئی تو یہ پلاسٹک کے فضلے اور فوسل فیول پر انحصار کم کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایجاد صرف لیبارٹری تک محدود رہے گی یا واقعی دنیا کی صنعتوں کو بدل کر رکھ دے گی۔

editor

Related Articles