وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان ہندوتوا کی پراکسی بن چکا ہے اور دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت کے ذریعے حل نکالا جائے، لیکن اگر افغانستان اس میں تعاون کے لیے تیار نہیں تو جو بھارت کے ساتھ ہوا، وہی کابل کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر ایک ہی دشمن کا سامنا ہے، اور کابل پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی یقین دہانی نہیں کرا رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو سمجھانے کے لیے قطر، سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ مل کر کئی بار کوشش کی، اور ان ممالک نے مذاکرات میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر افغانستان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سنجیدہ نہیں ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے آپشنز پر غور کرنا ہوگا۔