پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں جزوی نرمی کرتے ہوئے جم اسپورٹس سینٹرز آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے جسے کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور شہریوں کو ریلیف دینے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ صوبے میں لاک ڈاؤن کا نفاذ سکیورٹی خدشات اور حساس صورتحال کے پیش نظر کیا گیا تھا، جس کے باعث کئی کاروباری اور سماجی سرگرمیاں محدود ہو گئی تھیں۔ اس دوران خاص طور پر نوجوانوں، فری لانسرز اور آئی ٹی سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جم اور اسپورٹس سینٹرز کی بندش سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوئے بلکہ شہریوں کی جسمانی سرگرمیاں بھی محدود ہو کر رہ گئیں۔
لاک ڈاؤن کے باعث کال سینٹرز اور آئی ٹی کمپنیوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی، کیونکہ کئی اداروں کیلئے مکمل طور پر آن لائن منتقل ہونا ممکن نہیں تھا۔ اسی طرح فٹنس انڈسٹری سے وابستہ افراد، ٹرینرز اور ملازمین بھی مالی مشکلات کا شکار رہے۔
حکومت کی جانب سے اب ان شعبوں کو استثنیٰ دینے کے فیصلے کو معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئی ٹی سیکٹر اور کال سینٹرز ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہیں، اس لیے ان کی بحالی معیشت کیلئے مثبت قدم ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے اس فیصلے کو مجموعی طور پر خوش آئند قرار دیا ہے۔ جم مالکان اور اسپورٹس سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ان کے کاروبار بحال ہوں گے بلکہ لوگوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف بھی دوبارہ راغب کیا جا سکے گا۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ کمیونٹی نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مزید شعبوں میں بھی مرحلہ وار نرمی کی جائے گی۔
تاہم کچھ حلقوں نے احتیاط کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ نرمی ضروری ہے، لیکن حفاظتی اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
حکومت کا یہ قدم ایک متوازن حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت سکیورٹی اور عوامی ریلیف دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بتدریج معمولات زندگی بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔