پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیل پر بڑا جوابی حملہ: فضائی نگرانی کا نظام تباہ کرنے اور فضائی حدود پر قبضے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیل پر بڑا جوابی حملہ: فضائی نگرانی کا نظام تباہ کرنے اور فضائی حدود پر قبضے کا دعویٰ

 ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑا میزائل حملہ کر کے صہیونی ریاست کی دفاعی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اس آپریشن کی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ شبِ قدر کے مقدس موقع پر یہ کارروائی کی گئی جس میں 30 سپر ہیوی بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔

ان میزائلوں کی خاص بات ان کا وزن ہے، جن میں سے ہر ایک ایک سے دو ٹن وزنی وار ہیڈ (دھماکا خیز مواد) لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جنرل موسوی نے اپنے بیان میں ایک بڑا تزویراتی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے ذریعے اسرائیل کے کلیدی ایرواسپیس مانیٹرنگ اور سرویلنس سسٹم (فضائی نگرانی کے نظام) کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت صہیونی حکومت کی فضائی حدود کا ایک قابلِ ذکر حصہ ایران کے کنٹرول میں آ چکا ہے، کیونکہ اسرائیل کی مانیٹرنگ کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں ایرانی افواج نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا۔

ایرانی فورسز نے اپنے حالیہ اعلامیے میں واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکہ اور اسرائیل اپنی جارحیت پر پچھتاوے کا اظہار نہیں کرتے۔ ایران اپنے دفاع میں ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور اس کے حملوں کی شدت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *