افغان طالبان کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ،کابل میں تباہ ہونے والابحالی مرکز نہیں خود کش بمبار بنانے کا اڈا تھا

افغان طالبان کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ،کابل میں تباہ ہونے والابحالی مرکز نہیں خود کش بمبار بنانے کا اڈا تھا

کابل سے حاصل شدہ تازہ زمینی حقائق کے مطابق طالبان کی جانب سے دعویٰ کیے جانے والے منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کے بارے میں حقیقت واضح طور پر مختلف نکلی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس مقام پر کوئی بحالی مرکز موجود نہیں تھا جیسا کہ طالبان دعویٰ کر رہے ہیں، بلکہ موجودہ ڈھانچہ بنیادی طور پر طالبان کے فوجی اہلکاروں اور وابستہ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس مقام کو طالبان نے ماضی میں وقتی طور پر کابل کے منشیات کے عادی افراد کو جمع کرنے کے لیے استعمال کیا تھا،بعد ازاں ان افراد کو مختلف جنگجو سرداروں اور دہشت گرد تنظیموں کے حوالے کر دیا گیا، جنہیں بنیادی طور پر خودکش حملہ آور کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اس حوالے سے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ طالبان کی تاریخ میں اس طرح کی سرگرمیوں کا دائرہ عام رہا ہے، جہاں منشیات کے عادی افراد کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے،موجودہ ڈھانچہ جسے طالبان میڈیا میں پیش کر رہے ہیں، ایک کنٹینر نما عمارت ہے اور اس میں طالبان کے فوجی اہلکار اور وابستہ دہشت گرد گروہ کے افراد موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں :افغانستان میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی مرکز کے نام پر طالبان رجیم کا خطرناک کھیل؟ چونکا دینے والے انکشافات

طالبان میں منشیات کا استعمال اور ہم جنس پرستی کی رجحانات عام ہیں، یہ زمینی حقائق طالبان کے حالیہ پروپیگنڈے کے دعوؤں کے برعکس ہیں، جن میں انہوں نے اس مقام کو منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کے طور پر پیش کیا تھا، اس طرح کے بیانیے کو عالمی سطح پر پاکستان یا دیگر ممالک کے خلاف منفی تاثر دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کابل سے موصول ہونے والی اطلاعات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ طالبان کے دعووں کے برعکس یہ علاقہ عسکری اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فعال رہا اور موجودہ وقت میں بھی طالبان کے فوجی اور وابستہ تنظیموں کے افراد کی موجودگی کے باعث یہ مکمل طور پر شہری یا بحالی مرکز نہیں بلکہ خود کش بمبار تیار کرنے کا اڈا تھا۔

اس حوالے سے زمینی حقائق اور طالبان کے بیانیے میں واضح جھوٹ سامنے آیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اس پروپیگنڈے کی سچائی پر سوال اٹھاتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *