کابل میں گزشتہ رات ہونے والی فضائی کارروائی کے بعد کئی دن سے بند افغانی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اچانک بحالی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اس پیش رفت کے ساتھ ہی مختلف دعوے اور بیانیے بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ حملہ ایک بحالی مرکز پر کیا گیا، تاہم زمینی حقائق اس دعوے کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق افغان طالبان نے کارروائی سے قبل سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور شہریوں کو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزا دی جائے گی۔
تاہم فضائی کارروائی کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اچانک فعال کر دیا گیا، جس کے بعد ایک منظم مہم کے تحت بحالی مرکز پر حملے کا دعویٰ سامنے آیا۔
اس دوران بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بالی وڈ کی معروف اداکارہ Priyanka Chopra سمیت پاکستان مخالف بین الاقوامی شخصیات کی جانب سے بھی اس بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی، جسے ناقدین ایک مربوط مہم قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب زمینی صورتحال اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی،مقامی صحافیوں کو رات بھر انتظار کے بعد جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت دی گئی، جبکہ ماضی میں ایسی کسی خبر پر فوری رسائی نہیں دی جاتی تھی۔
جائے وقوعہ پر نہ تو خون کے نشانات ملے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر تباہی کے آثار دیکھے گئے، جبکہ کسی قسم کے جانی نقصان کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
مزید برآں اگر سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ درست ہوتا تو ان کے لواحقین بھی سامنے آتے تاہم ایسا نہیں ہوا Zawia News اور Afghan Times سمیت دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی۔
عینی شاہدین کے مطابق عمارت کو معمولی نقصان پہنچا اور آگ کے محدود اثرات دیکھے گئے، جبکہ دھماکہ اصل مقام سے کچھ فاصلے پر ہوا۔ موقع پر موجود افراد کا کہنا تھا کہ وہاں کوئی زخمی موجود نہیں تھا اور آگ بھی محدود نوعیت کی تھی۔
مقامی ذرائع کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ قریب واقع طالبان کے ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دھماکے کے بعد اسلحے میں آگ لگنے سے شعلے بلندہوئے،اس تناظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور ملک کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کے لیے فضا ہموار کرنا ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا اسے اپنے شہریوں کے تحفظ سے نہیں روک سکتا،حکام کے مطابق جب تک افغانستان کی سرزمین دہشت گرد عناصر، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان کے خودکش حملہ آوروں کے لیے استعمال ہوتی رہے گی، پاکستان ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔