وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان نے افغان طالبان کے ایک اور پروپیگنڈا کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ افغان سرکاری ہینڈل کی جانب سے جاری پوسٹ یا ویڈیو کو بعد میں ڈیلیٹ کیا گیا۔
وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک کے مطابق یہ پوسٹ ابتدائی طور پر دعویٰ کر رہی تھی کہ ’منشیات کے عادی مریضوں کی بحالی‘ کے ایک سینٹر کو نقصان پہنچا ہے، تاہم بعد میں طالبان رجیم نے اس دعوے کو واپس لے لیا گیا۔
وزارت اطلاعات کے ترجمان نے بتایا کہ اس پوسٹ یا ویڈیو میں پیش کیے گئے دعوے حقائق پر مبنی نہیں تھے اور یہ ممکن ہے کہ اسے اے آئی یا کسی ڈیجیٹل ٹول کے ذریعے تیار کیا گیا ہو، جس کی بنیاد پر فیکٹ چیک کرنے والے اداروں نے اسے جعلی قرار دیا۔
فیکٹ چیک کے مطابق افغان طالبان اپنی جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور موجودہ پوسٹ کی ڈیلیٹیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر مصدقہ مواد اور جھوٹے دعوے عالمی سطح پر تیزی سے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں یا غیر تصدیق شدہ معلومات پر بھروسہ نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کو ہی شیئر کریں۔
واضح رہے کہ ایسے پروپیگنڈا مواد کا مقصد سیاسی یا میڈیا میں اشتعال پیدا کرنا ہوتا ہے اور فیکٹ چیک کی کوششیں اس کے اثرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان میں میڈیا اور عوام کو مستند معلومات کی فراہمی کے لیے مستقل بنیادوں پر فیکٹ چیک اور شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
حالیہ واقعے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ عالمی اور ڈیجیٹل سطح پر جھوٹی معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے مستند اداروں کی بروقت تحقیقات اور افواہوں کے خلاف آگاہی ضروری ہے۔
وزارت اطلاعات نے افغان طالبان اور دیگر متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جھوٹے اور من گھڑت دعوؤں کو فوری طور پر واپس لیں تاکہ خطے میں اطلاعات کی سچائی برقرار رہے۔