ٓآئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی جنگ 2027 تک جاری رہی اور تیل کی قیمتیں 125 ڈالر رہیں تو حالات مزید بدتر ہوسکتے ہیں۔
ایک بیان میں ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی پہلے کی گئی پیش گوئی موجودہ حالات کی مناسبت سے درست نہیں۔
انہوں نے بتایا آئی ایم ایف نے پہلے پیش گوئی کی تھی کہ ایران کے خلاف امریکا اسرائیل جنگ عالمی اقتصادی ترقی میں سست روی اور مہنگائی میں معمولی اضافے کا باعث بنے گی۔
اس سے قبل بھی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث دیرپا معاشی بحران پیدا ہونے کا امکان ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی وجہ سے نقل و حمل اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ سے کم از کم ساڑھے چار کروڑ افراد کے متاثر ہونے کی توقع ہے، یہاں تک کہ ایک بہترین صورت میں بھی پہلے جیسی صورت حال میں واپسی ممکن نہیں ہو گی۔‘
سربراہ آئی ایم ایف نے کہا کہ کم آمدنی والے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، ممالک مالیاتی پالیسی میں احتیاط برتیں۔
واضح رہے فروری کے آخر سے ایرانی افواج نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس صورت حال سے تیل، گیس اور کھاد کی بنیادی سپلائی میں خلل پڑا ہے۔ امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔