خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یورپی یونین نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ فوجی آپریشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ یورپی ممالک نے امریکا سے ایران کے حوالے سے اپنی جنگی حکمت عملی پر وضاحت بھی طلب کر لی ہے۔
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطے میں مزید فوجی سرگرمیوں کے بجائے سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خلیج فارس میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت اور سفارتکاری ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔
یورپی یونین کے حکام کے مطابق رکن ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی اتحاد یا آپریشن کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
اجلاس کے دوران کئی یورپی رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی اور ممکنہ اقدامات کے بارے میں اتحادی ممالک کو واضح طور پر آگاہ کریں۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی اقدام کے خطے اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے ایسے فیصلوں میں اتحادیوں سے مشاورت ضروری ہے۔
جرمن چانسلر نے بھی اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ شمالی اوقیانوس کے فوجی اتحاد نیٹو کو اس تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق نیٹو کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون ہے اور اسے خلیج کے اس بحران میں براہ راست فریق نہیں بننا چاہیے۔
اسی طرح فرانس کے صدر پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فرانس خلیج فارس میں اضافی جنگی جہاز بھیجنے کے حق میں نہیں ہے۔ فرانسیسی قیادت کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے دوران فوجی موجودگی میں اضافہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ کے وزیراعظم بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کسی ممکنہ جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہوگا، تاہم خطے میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے سفارتی اور محدود دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق یورپی یونین کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپ اس بحران میں محتاط پالیسی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ یورپی ممالک ایک طرف امریکا کے اتحادی ہیں جبکہ دوسری جانب وہ ایران کے ساتھ سفارتی روابط کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی فوجی کشیدگی کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خلیج فارس میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو نہ صرف توانائی کی عالمی قیمتیں متاثر ہوں گی بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سمندری راستوں کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔