ایران نے اپنے اہم ترین تیل برآمدی مرکز ’خارگ آئل ٹرمینل‘ پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن ردعمل دینے کا انتباہ جاری کردیا ہے، جبکہ پڑوسی ممالک کو بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین سے امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو ان ممالک کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کے جواب میں بھرپور اور فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادی خارگ جزیرے میں واقع تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایران بھی جوابی کارروائی میں اس ملک کی تیل و گیس تنصیبات کو ہدف بنا سکتا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ ایرانی فوج جب کسی معاملے پر وارننگ دیتی ہے تو وہ محض بیان نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی حکمت عملی خطے میں کسی بھی حملے کا فوری اور موثر جواب دینے پر مبنی ہے۔
انہوں نے خطے کے پڑوسی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک امریکا کو اپنی سرزمین، فضائی حدود یا فوجی اڈے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے اس کے ممکنہ نتائج کا اندازہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ایران کے ردعمل میں اس ملک کے توانائی کے مراکز، آئل ٹرمینلز اور گیس تنصیبات خطرے میں آ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے ایک روز قبل ایران کے خارگ جزیرے کو ممکنہ ہدف قرار دینے کا اشارہ دیا تھا۔ امریکی حکام کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور دفاعی مبصرین اس صورتحال کو خلیج کے لیے حساس قرار دے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ملک کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز ہے۔ یہ جزیرہ ایرانی ساحل سے تقریباً 15 ناٹیکل میل کے فاصلے پر خلیج فارس میں واقع ہے اور یہاں بڑے پیمانے پر آئل اسٹوریج ٹینکس، لوڈنگ ٹرمینلز اور بحری سہولیات موجود ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایران کی توانائی سپلائی لائن کا مرکزی ستون سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس جزیرے کو کسی بھی فوجی کارروائی میں نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ عالمی تیل منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج فارس میں تیل کی تنصیبات پہلے بھی کئی بار جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا مرکز رہ چکی ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور خطے میں فوجی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس طرح کے بیانات خطے کے ممالک کے لیے سفارتی اور سیکیورٹی چیلنجز کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں امریکی فوجی اڈے یا دفاعی تعاون موجود ہے۔
واضح رہے کہ اگر خارگ آئل ٹرمینل کسی بھی تنازع کا مرکز بنتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے توانائی کے نظام اور عالمی تیل سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں۔