حکومت نے مالی دباؤ کم کرنے اور اقتصادی اہداف حاصل کرنے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری ملازمین کے الاؤنسز سمیت دیگر تمام اضافی ادائیگیاں تاحکم ثانی روک دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی خصوصی ہدایات پر اے جی پی آرنے فوری طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے، جس کے تحت اب صرف بنیادی تنخواہوں کی ادائیگی جاری رکھی جائے گی جبکہ دیگر تمام مالی مراعات معطل کر دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ معاشی صورتحال اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کرنا چاہتی ہے، جس کے باعث غیر ضروری اخراجات میں کمی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ پابندی عارضی نوعیت کی ہے اور معاشی حالات بہتر ہونے یا مذاکرات میں پیش رفت کے بعد اس پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب سرکاری ملازمین کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں الاؤنسز کی بندش سے مالی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ اقدام قلیل مدت میں حکومتی اخراجات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم طویل مدت میں ملازمین کی کارکردگی اور ادارہ جاتی ماحول پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذرئع کا مزید کہنا ہے کہ یہ سخت اقدام آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔ حکومت مالیاتی اہداف کے مقررہ بینچ مارک کو ہر صورت پورا کرنا چاہتی ہے جس کے باعث دیگر تمام ادائیگیاں تاحال معطل رکھی گئی ہیں۔