امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف ایک بڑی اور طوفانی عوامی تحریک نے جنم لے لیا ہے۔
ملک بھر کے ‘3000’ سے زیادہ چھوٹے بڑے شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر ‘ایران کے خلاف جنگ’ اور مشرقِ وسطیٰ میں مداخلت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ان مظاہروں میں 70 لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے، جو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج بن گیا ہے۔
واشنگٹن میں منعقدہ بڑے ’نو کنگز‘ (بادشاہوں کی ضرورت نہیں) مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے معروف سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اپنی ذاتی انا اور سیاسی مفادات کے لیے پوری دنیا کو ایک نئے عالمی بحران سے دوچار کر رہے ہیں۔ برنی سینڈرز نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ’آج ہمارا پیغام صاف ہے‘ کہ ’نو مور کنگز‘ ۔ ہم اپنے ملک میں آمریت نہیں چاہتے۔ یہ جمہوریت ہے جہاں ایک شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ماضی میں عراق جنگ کے لیے امریکی عوام سے ’جھوٹ‘ بولا گیا تھا، بالکل اسی طرح آج ایران کے خلاف جنگ کے لیے بھی جھوٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کسی صدر نے اپنی طاقت کا اتنا غلط استعمال نہیں کیا۔
مظاہرین نے ‘غزہ’ کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ برنی سینڈرز نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں ہزاروں بے گناہ افراد کے قتلِ عام کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے فراہم کیے جانے والے مہلک اسلحے کی فراہمی بند کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جھوٹ بول کر عوام کی محنت کی کمائی کو ‘ایران جنگ’ جیسے لاحاصل منصوبوں پر ضائع کر رہے ہیں۔
مظاہروں کے دوران واشنگٹن، نیویارک، شکاگو اور لاس اینجلس جیسے بڑے شہروں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ شہریوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’ایران پر بمباری بند کرو‘ اور پیسہ جنگ پر نہیں، تعلیم اور صحت پر خرچ کرو کے نعرے درج تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’70’ لاکھ افراد کا سڑکوں پر آنا ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ عوامی لہر انتخابات پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، تاہم مظاہرین کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اپنی جنگی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو یہ تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے ملک میں داخلی عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔