برطانیہ میں ریاستی اداروں اور قومی سلامتی کے ضامن مقتدر حلقوں کے خلاف بیرونِ ملک بیٹھ کر ہرزہ سرائی اور نفرت انگیز بیانات داغنے والے عناصر کے خلاف قانون کا گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے شہر میرپور کے رہائشی عمران شیخ کے خلاف عوامی اجتماع میں ملکی اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز، توہین آمیز اور نفرت سے بھرپور تقریر کرنے پر تھانہ سٹی میرپور میں ایک سنگین مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے مستند بصری و ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر کا اندراج کر کے ملزم کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
تھانہ سٹی میرپور میں درج ہونے والے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان اور متعلقہ قوانین کی انتہائی سخت دفعات 506 (مجرمانہ دھمکی)، 504 (امن خراب کرنے کی نیت سے توہین)، 505 (عوام میں خوف و ہراس یا بغاوت پھیلانے والا بیان) اور 123A (پاکستان کے قیام کے خلاف مہم یا خودمختاری کو نقصان پہنچانا) کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل و دیگر مروجہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ دفعات ریاست کے خلاف سازش اور عوام کو ملکی سیکیورٹی اداروں کے خلاف صف آرا کرنے کے سنگین جرائم کا احاطہ کرتی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم عمران شیخ نے برطانیہ میں منعقدہ ایک عوامی اجتماع کے دوران اسٹیج کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے معزز ریاستی اداروں اور ان کے چوٹی کے سربراہان کے خلاف انتہائی نامناسب، من گھڑت اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔
متن میں واضح کیا گیا ہے کہ ملزم کا بنیادی مقصد ریاست کے خلاف عوام کو اکسانا، اداروں کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانا اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں نفرت کے بیج بو کر ملک میں داخلی عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ میرپور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آزاد کشمیر کا ضلع میرپور جیو پولیٹیکل اور جیو اکنامک لحاظ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس شہر کی نصف سے زیادہ آبادی برطانیہ میں مقیم ہے، جس کی وجہ سے اسے ’لٹل انگلینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اوورسیز کشمیریوں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد برطانوی سیاست اور سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک ہے۔ حالیہ چند سالوں میں یہ رجحان تیزی سے بڑھا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے وابستہ بعض اوورسیز کارکنان برطانیہ، یورپ اور امریکا کی آزاد فضاؤں اور وہاں کے قوانین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی فوج، عدلیہ اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف انتہائی جارحانہ مہم چلاتے ہیں۔
ماضی میں ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوتا تھا، لیکن اب حکومتِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک سخت پالیسی اپنائی ہے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کی عدالتوں اور پولیس نے اب ایسے معاملات میں ’صلاحیتِ دائرہ اختیار‘کا اصول وضع کیا ہے، جس کے تحت اگر کوئی بھی پاکستانی شہری دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف جرم یا اشتعال انگیزی کا مرتکب ہوگا، تو اس کے آبائی شہر میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
ایسے ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کر کے انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے یا پاکستان میں موجود ان کی جائیدادیں اور شناختی کارڈ منجمد کرنے کے لیے ایف آئی اے کو متحرک کیا جاتا ہے۔