امریکا ایران 45 روزہ جنگ بندی کا امکان،ثالث متحرک،دو آپشن پر بڑی پیش رفت

امریکا ایران 45 روزہ جنگ بندی کا امکان،ثالث متحرک،دو آپشن پر بڑی پیش رفت

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ ایران، امریکا اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔

امریکی جریدے ایگزوس نے امریکی، اسرائیلی اور خطے کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالث فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، جس کے پہلے مرحلے میں ممکنہ طور پر 45 دن کی جنگ بندی ہوگی، اس کے دوران مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

ایگزوس کی رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا، اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوششیں جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا اہم موقع سمجھی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے بیان اور بڑھتی کشیدگی کا اثر،تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

دوسری جانب عالمی مذہبی رہنما پوپ نے بھی جنگ کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن کے پاس جنگ چھیڑنے کی طاقت ہے، وہ امن کا انتخاب کریں۔

ادھر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکا ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈیڈ لائن میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران پر سخت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے دی گئی نئی ڈیڈ لائن کے مطابق ایران کو معاہدے کے لیے منگل رات 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) تک کا وقت دیا گیا ہے، جو ایران میں بدھ کی صبح 3:30 اور پاکستان کے مطابق صبح 5 بجے بنتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *