’آپریشن غضب اللحق‘ کے اثرات نمایاں، دہشتگردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، ’پی آئی سی ایس ایس‘ کی رپورٹ جاری

’آپریشن غضب اللحق‘ کے اثرات نمایاں، دہشتگردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، ’پی آئی سی ایس ایس‘ کی رپورٹ جاری

پاکستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور آپریشن ‘غزاب لل حق’ کے ثمرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک ’پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز‘ (پی آئی سی ایس ایس) کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق، مارچ 2026 کے دوران ملک بھر میں جنگ سے متعلقہ ہلاکتوں میں 35 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق کے ثمرات، دہشتگردی میں 65 فیصد کمی آگئی

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ میں کل 331 افراد مارے گئے ، جبکہ فروری میں یہ تعداد 506 تھی، جو سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انسانی نقصانات میں یہ بڑی کمی فروری کے آخری ہفتے میں شروع ہونے والے آپریشن ’غضبِ للحق ‘ کے تحت سرحد پار فوجی حملوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ان کارروائیوں میں افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس نے عسکریت پسندوں کی مہلک حملے کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین جیسے گروہوں نے حملوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا، تاہم ان سرگرمیوں کے مجموعی اثرات محدود رہے اور جانی نقصان میں تیزی سے کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بہتری شہری تحفظ میں دیکھی گئی ہے جہاں شہریوں کے مارے جانے کی تعداد فروری میں 132 سے کم ہو کر مارچ میں محض 39 رہ گئی، جو کہ 70 فیصد کی ریکارڈ کمی ہے۔ اسی طرح سیکیورٹی فورسز کی شہادتیں 80 سے کم ہو کر 59 ہوئیں، جبکہ عسکریت پسندوں کی ہلاکتیں بھی 294 سے کم ہو کر 228 رہ گئیں۔

مزید پڑھیں:دہشتگردی کیخلاف ریاستی بیانیے کو مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

رپورٹ کے مطابق مجموعی زخمیوں کی تعداد میں بھی 37 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، مارچ میں 210 افراد زخمی ہوئے جبکہ فروری میں یہ شرح 333 تھی۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ شدت پسندوں کے زخمی ہونے کی شرح میں 138 فیصد اضافہ ہوا، جو سیکیورٹی اداروں کے مؤثر جوابی حملوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ آپریشن ’غضبِ للحق‘ کی بدولت سرحد پار محفوظ ٹھکانوں کی تباہی نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کر دیا ہے۔

’پی آئی سی ایس ایس‘ کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگرچہ حملوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن ان کی مہلک نوعیت اور ہائی پروفائل ہدف بنانے کی طاقت میں واضح کمی آئی ہے، جو کہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کی بڑی کامیابی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *