صوبہ پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بھی سرکاری اسکولوں کی طرز پر لیپ ٹاپ اسکیم اور سستی انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنے کی اہم تجویز سامنے آئی ہے، جسے تعلیمی شعبے میں بہتری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تجویز اس وقت سامنے آئی جب صوبائی وزیرِ قانون رانا محمد اقبال سے پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر کاشف ادیب کر رہے تھے۔
ملاقات کے دوران نجی اسکولوں کو درپیش مالی، انتظامی اور تعلیمی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور متعدد عملی تجاویز پیش کی گئیں۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کم فیس لینے والے نجی اسکولوں پر عائد کمرشلائزیشن فیس کو ختم کیا جائے تاکہ ان اداروں پر مالی دباؤ کم ہو سکے۔
اسی طرح بجلی کے کمرشل نرخوں کی جگہ تعلیمی نرخ لاگو کرنے کی بھی سفارش کی گئی، جس سے اسکولوں کے اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سالانہ دو سو بیس تدریسی دن مقرر کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، تاکہ طلبہ کو مسلسل اور معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔
اس کے علاوہ نجی اسکولوں کے اساتذہ کے لیے خصوصی سہولیات اور آسان قرضہ اسکیمیں متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ تدریسی عملے کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں اضافہ ہو۔
اہم مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ نجی اسکولوں کے طلبہ کو بھی جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں، جن میں لیپ ٹاپ اسکیم اور کم قیمت انٹرنیٹ سروس شامل ہے۔ وزیرِ قانون رانا محمد اقبال نے وفد کے تمام مطالبات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی اقدامات کر رہی ہے اور نجی تعلیمی شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔