پاکستان کی سفارتی کوششوں کی دُنیا معترف! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کی ٹویٹ بھی شیئر کردی

پاکستان کی سفارتی کوششوں کی دُنیا معترف! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کی ٹویٹ بھی شیئر کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گیا اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ روزانہ 2 پاکستانی جہاز اس اہم بحری راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کی سپلائی بھی مستحکم ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ، ایران پر حملے سے پیدا ہونے والی کشیدگی، خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ جنگی حالات کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔ کئی ممالک کے بحری جہازوں کو تاخیر اور اضافی سیکیورٹی چیک کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس سے لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کیا جانا سفارتی سطح پر ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک مؤثر اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ نے شہباز شریف کا ٹویٹ سوشل میڈیا پر شیئر کردیا

مزید برآں، امریکی صدر اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ بھی شیئر کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا تھا۔ اس تسلسل کو ماہرین پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے۔

ادھر حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، اور عالمی برادری کسی بھی مثبت سفارتی اشارے کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *