ایران میں جنگ کا سلسلہ آج 36 ویں روز بھی جاری ہے جہاں گذشتہ چند گھنٹوں میں دارالحکومت تہران کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور جنگی طیاروں کی شدید پروازیں دیکھی گئیں۔
ترک میڈیا کے مطابق ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں ماہشہر اسپیشل پیٹروکیمیکل زون پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں اور اس حملے میں 5 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
امریکی و اسرائیلی حملے میں بندر امام پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا، حملے میں کمپلیکس کے کچھ سیکشنز کو نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی میڈیا کیمطابق حملوں میں ایران کے جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں فجر، رجال اور امیر کبیر پیٹرو کیمیکل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ بوشہر جوہری پاور پلانٹ پیری میٹر کے قریب پروجیکٹائل حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملے سے بوشہر پاور پلانٹ کے مرکزی حصوں کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی پروڈکشن متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تہران میں دفاعی مراکز، اسلحہ سازی کے یونٹس اور ریسرچ سینٹرز کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی نظام کی صلاحیتوں کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق تہران کے شمالی پہاڑی علاقوں، صوبہ آذربائیجان غربی اور اہواز کے جنوب مشرق میں واقع شہر عبادان میں بھی دھماکے ہوئے ہیں، امریکی انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کے مطابق تہران کی بہشتی یونیورسٹی میں ایٹمی تحقیقی مرکز، صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایرانی فوج کے دسویں اڈے اور اصفہان میں پاسداران انقلاب کے اسلحہ خانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فضائیہ کا دوسرا A-10 جنگی طیارہ تباہ ہو گیا ہے، جس کے پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ کارروائی شروع کرنے کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس میں اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اب تک 1,340 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ منگل کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ اس کی فوجی اور معاشی تباہی تک جاری رہے گی اور اگلے دو سے تین ہفتوں میں مزید شدید حملے کیے جائیں گے۔