پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے پیغام کے بعد سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ان کے درمیان  سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی میں تقسیم مزید واضح ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پارٹی کے پارلیمانی ارکان کے واٹس ایپ گروپ میں گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا،علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ کے بعض دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص بانی عمران خان کے خلاف سازش کر رہا ہے تو اس کا واضح نام لیا جائےاس کی اس کا کا کیا مطلب ہے

انہوں نے مزید کہا کہ مبہم انداز میں الزامات لگانا درست نہیں اور اس طرح کے بیانات سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جب بات کی جائے تو واضح طور پر ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ علی امین نے سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنا صوبہ  آپ سے کنٹرول نہیں ہوتا اور دوسروں پر الزامات لگا رہےہیں ۔

یہ بھی پڑھیں :پارلیمانی پارٹی کے تحفظات کے باوجود وزیر اعلی سہیل آفریدی وزراء کی نئی ٹیم سامنے لے آے

علی امین گنڈاپور نے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ وہ جس شخصیت کا ذکر کر رہے ہیں اس کا نام لیا جائے، غیر واضح انداز میں بات کرنا مناسب نہیں، پارٹی میں الزام تراشی کا سلسلہ اتحاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

علی امین نے مزید کہا کہ کسی کو بھی تحریک انصاف کے بانی کے خلاف سازش کے الزامات لگاتے وقت ثبوت اور وضاحت کے ساتھ بات کرنی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں میں ایک دوسرے کو غداری کے سرٹیفکیٹ دینا مناسب طرزِ عمل نہیں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ پہلے بھی بانی عمران خان کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

editor

Related Articles