صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے اہم انتظامی و سیاسی فیصلے کرتے ہوئے پانچ نئے وزراء سمیت مشیروں اور معاونین خصوصی کو مختلف محکموں کی ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں جس کا باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان تقرریوں سے قبل خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شدید اختلافات سامنے آئے تھے جہاں متعدد اراکین نے نئی کابینہ سازی اور بعض ناموں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں بعض اراکین نے وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ فیصلوں میں مشاورت کے عمل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تاہم ان اعتراضات کے باوجود وزیراعلیٰ نے اپنی صوابدید کے تحت کابینہ میں نئے ارکان شامل کر دیے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق نذیر احمد عباسی کو انرجی اینڈ پاور، شکیل احمد کو کمیونیکیشن اینڈ ورکس جبکہ محمد عارف کو معدنیات و معدنی ترقی کا محکمہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح طارق محمود آریانی کو ریونیو اینڈ اسٹیٹ اور شفیع اللہ جان کو اطلاعات و تعلقات عامہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
مشیروں میں مصور خان کو ماحولیات، جنگلی حیات اور موسمیاتی تبدیلی، لیاقت خان کو زکوٰۃ و عشر، ہمایون خان کو صنعت اور میاں محمد عمر کو زراعت کا قلمدان دیا گیا ہے۔
اسی طرح معاونین خصوصی میں طارق سعید کو داخلہ، محمد عثمان کو فنی تعلیم طفیل انجم کو بہبود آبادی، افتخار اللہ جان کو جیل خانہ جات، سمیع اللہ جان کو ٹرانسپورٹ، میاں عدیل اقبال کو ثقافت و سیاحت، محمد خورشید کو لائیوسٹاک و ماہی پروری اور محمد اسرار کو خوراک کے محکمے کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کے اندر موجود اختلافات کے باوجود کابینہ میں توسیع اور نئی تعیناتیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فیصلوں میں مشاورت کے بجائے صوابدید کو ترجیح دی گئی ہے جس کے باعث آئندہ دنوں میں حکمران جماعت کے اندر مزید سیاسی اختلافات اور گروہ بندی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔