ایران کے جنوب مغربی پہاڑی علاقے میں گرائے گئے امریکی جنگی طیارے کے ایک اہلکار کی بازیابی سے قبل سامنے آنے والا مختصر ریڈیو پیغام امریکی حکام کے لیے تشویش کا باعث بنا رہا
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل طیارے سے ایجیکٹ ہونے کے بعد لاپتہ ہونے والے ویپنز سسٹمز آفیسر نے ریڈیو پر صرف اتنا کہا تھا کہ “خدا اچھا ہے”، جس پر واشنگٹن میں حکام کو خدشہ ہوا کہ کہیں یہ کسی جال کا حصہ نہ ہو۔
بعد ازاں اہلکار کو جاننے والے ذرائع نے بتایا کہ وہ مذہبی رجحان رکھتا ہے، اس لیے اس نوعیت کا جملہ اس کی عادت کا حصہ ہو سکتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بھی اس پیغام کی تصدیق کی جبکہ وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہی الفاظ شیئر کیے۔
رپورٹس کے مطابق مذکورہ اہلکار کے پاس مواصلاتی آلہ، ٹریکنگ بیکن اور ہینڈگن موجود تھی۔ وہ ایرانی اور امریکی فورسز کی تلاش کے دوران پہاڑی علاقے میں مسلسل اپنی جگہ تبدیل کرتا رہا اور تعاقب سے بچنے کے لیے تقریباً 7 ہزار فٹ بلند راستہ طے کیا۔
بعد ازاں سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا مقام معلوم کیا اور معلومات وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور امریکی فوج کے ساتھ شیئر کیں۔ جس کے بعد خصوصی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ہفتے کی رات اہلکار کو بحفاظت نکال لیا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ 3 اپریل کو پیش آیا تھا جب امریکی ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل طیارہ ایران کے جنوب مغربی علاقے میں مار گرایا گیا تھا۔ طیارے کا ایک پائلٹ فوری طور پر بازیاب ہو گیا تھا جبکہ دوسرے اہلکار کی تلاش دو روز تک جاری رہی۔