خلیجی خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ کویت کے ہوائی اڈے پر ہونے والی تباہی ایرانی میزائلوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ امریکی دفاعی نظام میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے، جو ایرانی میزائلوں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب، کویت اور بحرین میں ہونے والے ان فضائی حملوں کے بعد شدید افراتفری کا ماحول ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 1 شخص جاں بحق اور 63 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ کویت میں فوری طور پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور تمام ملکی و غیر ملکی پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
مختلف فریقین کے باضابطہ بیانات
ہم نے کویت کے شہری ہوائی اڈے پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ وہاں جو بھی نقصان ہوا ہے، وہ امریکی دفاعی نظام کے اپنے میزائلوں کے گرنے اور اس میں خرابی کے باعث ہوا ہے‘۔
کویتی وزارت خارجہ و دفاع
’ہمارے فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے متعدد ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی کامیابی سے تباہ کر دیا ہے، تاہم ملبے کے گرنے سے اہم تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچا ہے‘۔
امریکی سینٹ کام
’ایران نے دوبارہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکی اور اتحادی افواج نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں‘۔
خلیجی ممالک بالخصوص کویت اور بحرین طویل عرصے سے امریکا کے اہم اتحادی رہے ہیں۔ بحرین میں امریکی بحریہ کا 5 واں بیڑا موجود ہے، جبکہ کویت میں بھی امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ نیوکلیئر اور علاقائی تنازعات کے نتیجے میں یہ خطہ پہلے ہی بارود کے ڈھیر پر بیٹھا تھا۔ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ خلیج میں غیر علاقائی طاقتوں کی موجودگی امن کے لیے خطرہ ہے، جبکہ خلیجی ممالک ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ حالیہ حملہ اسی دیرینہ کشیدگی کا ایک خطرناک تسلسل ہے۔
نقصانات کی تفصیلات
حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نقصانات اور موجودہ صورتحال کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
ان فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 1 شخص کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، حملے میں کم از کم 63 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے مختلف مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ادھر کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام ملکی و بین الاقوامی پروازیں فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور فلائٹ آپریشن تا حکم ثانی بند رہے گا۔
ایئرپورٹ کے علاوہ قریبی سفارتی مشنز اور اہم سرکاری عمارات کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد پورے ملک میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی حدود سے داغے گئے کئی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز اپنے اصل اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے اور سمندر یا غیر آباد علاقوں میں گر گئے، جس کی وجہ سے بحری جہازوں کو بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور خطرناک بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دفاعی نظام کی افادیت پر سوالات
اگر کویتی اور امریکی دعوے درست ہیں کہ میزائل مار گرائے گئے، تب بھی 1 ہلاکت اور 63 زخمیوں کا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ میزائلوں کا ملبہ بھی شہری علاقوں میں بھاری تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
علاقائی معیشت پر اثرات
کویت ایئرپورٹ کی بندش اور پروازوں کی معطلی سے خلیج کی ہوا بازی کی صنعت کو کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اگر یہ کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔