معاشی دباؤ، انفراسٹرکچر اور پانی کے منصوبوں پر کلہاڑا چل گیا، ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی کٹوتی

معاشی دباؤ، انفراسٹرکچر اور پانی کے منصوبوں پر کلہاڑا چل گیا، ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی کٹوتی

وفاقی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے پیشِ نظر اپنے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں 173 ارب روپے کی بھاری کٹوتی کر دی ہے۔

وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام کے مطابق، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی ) جس کا ابتدائی حجم ایک کھرب روپے سے زیادہ تھا، اب کم ہو کر 837 ارب روپے رہ گیا ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کٹوتیاں 2 مختلف مراحل میں کی گئیں۔ پہلے مرحلے میں 100 ارب روپے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 73 ارب روپے کم کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی زیر صدارت چاغی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس، ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ

حکام نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے معاشی اہداف کو پورا کرنا ناگزیر تھا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے عدم استحکام نے ملکی مالیاتی پوزیشن کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے باعث اخراجات کو کنٹرول کرنا ضروری ہو گیا تھا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سب سے بڑی کٹوتی روڈ انفراسٹرکچر کے شعبے میں کی گئی ہے جہاں فنڈز میں 38 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔

اسی طرح واٹر سیکٹر کے منصوبوں میں 23 ارب روپے اور صوبائی ترقیاتی اسکیموں میں 22.5 ارب روپے کی کٹوتی عمل میں لائی گئی ہے۔ تاہم اس بڑی کٹوتی کے باوجود وزارتِ منصوبہ بندی اور اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے تجویز کردہ بیشتر ترقیاتی اسکیموں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مختص کردہ فنڈز کا صرف 41 فیصد استعمال کیا جا سکا، جو کہ ترقیاتی کاموں کی سست رفتاری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:وفاقی حکومت کا بڑی تعداد میں سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ،اہم تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان کا ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی ) ملک میں نئی سڑکوں، ڈیموں، بجلی کے منصوبوں اور سماجی بہبود کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کے تحت مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اکثر ترقیاتی بجٹ ہی سب سے پہلے کٹوتی کا شکار ہوتا ہے۔

2026 کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے جہاں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، وہیں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنے بجٹ اہداف کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ 173 ارب روپے کی یہ کمی مستقبل کے کئی اہم منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *