ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں اور سابق فوجی و تجزیہ کار پیٹ ہیگستھ کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگا۔
عباس عراقچی نے سخت لہجے میں ایران کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے جھکنا نہیں، صرف جیتنا سیکھا ہے‘۔ ان کے اس بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے پانچ نکاتی جواب میں واضح کیا کہ ایران دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اس کی فطرت میں نہیں۔
انہوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری سٹریٹجک خاموشی کو کمزوری سمجھنا آپ کا تکبر ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ طاقت کے توازن کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں ایرانی قوم کے اندر مزید مزاحمت پیدا کرتی ہیں۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطٰی ان لوگوں کی سرزمین ہے جو یہاں بستے ہیں، اور تہران کسی بیرونی طاقت سے ہدایات لینا قبول نہیں کرتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جائے کیونکہ جس قوم کو توڑا نہیں جا سکتا، اسے ڈرایا بھی نہیں جا سکتا۔
واضح رہے کہ عباس عراقچی کا یہ لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اب اپنی دفاعی پوزیشن تبدیل کر کے جوابی بیانیے کی طرف آ چکا ہے، جہاں وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ صرف برابری اور وقار کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ 13 اپریل 2026 کو سامنے آنے والا یہ بیان آنے والے دنوں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
سید عباس عراقچی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں اور علاقائی اثر و رسوخ کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ان کا بیانیہ دراصل ایران کی اس ’مزاحمتی معیشت‘ اور ’مزاحمتی سفارت کاری‘ کا تسلسل ہے جو اسے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کو دیا گیا یہ جواب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اب کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے کی پوزیشن میں آنا چاہتا ہے۔