لبنان پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھم نہ سکا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 2 مارچ سے جاری اسرائیلی مظالم میں اب تک شہید ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 2 ہزار 55 تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 6 ہزار 588 ہو چکی ہے، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، آج جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید جبکہ ایک کمسن بچی شدید زخمی ہو گئی۔
اسپتالوں میں زخمیوں کی کثرت اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث لبنان میں انسانی بحران نے شدت اختیار کر لی ہے۔
طبی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں پر حد سے زیادہ دباؤ ہے، ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جبلِ عامل اسپتال کے ڈاکٹر عباس عطیہ کے مطابق حالیہ بمباری گزشتہ برسوں کی شدید ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے، جس میں بڑی تعداد میں بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے باعث اموات اور زخمیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کئی علاقے مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
یاد رہے کہ لبنان میں حالیہ کشیدگی کا آغاز 2 مارچ کو اس وقت ہوا جب حزب اللّٰہ نے اسرائیلی مقامات پر حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل نے فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دیں، جن میں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔