مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان کے تعمیری کردار کاعالمی سطح پر اعتراف کیا جارہا ہےجبکہ دوغلی پالیسیوں کے باعث بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
یہودو ہنود گٹھ جوڑ پر مودی سرکار شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے جبکہ پاکستان خطہ کے بحران کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے میں پیش پیش ہے۔
امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق ایران اسرائیل جنگ پر خاموشی اختیار کرنے کی وجہ سے مودی سرکار کو ملک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے ، پاکستان اسرائیل کے ساتھ تناؤ کے باوجوداس بحران میں ایک کلیدی فریق کے طور پر کردار ادا کر رہاہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے تصدیق کی کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایک بڑے پیمانے پر بھڑکنے والی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے، پاکستان کے بطور ثالث کردار پر بھارتی اپوزیشن قیادت کی جانب سے شدید ردِعمل اور غصے کا اظہار کیا گیا ۔
کانگریس لیڈر ششی تھرور نے اعتراف کیا کہ پاکستان سفارتی طور پر بھارت سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، بی جے پی کے حامی انتہا پسند حلقوں میں اسرائیل کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا مبینہ اسلام دشمن تشخص ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کے ہندو انتہا پسند حلقوں میں اسرائیل کی حمایت اسلام مخالف نظریاتی مماثلت پر مبنی ہے اور جس نے بھارت کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے جبکہ پاکستان بہترین سفارتکاری اور کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت دنیا میں ایک بااعتماد اور باوقار طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔