امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر نیٹو کے پیچھے پڑگئے ، ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو پر امریکا کے اخراجات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں نیٹو نے ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ نیٹو ہمارے لیے وہاں موجود نہیں تھا، اب وہ آگے آنا چاہتا ہے، لیکن اب ہمارے لیے کوئی حقیقی خطرہ باقی نہیں رہا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نے نیٹو پر کھربوں ڈالرز خرچ کیے تاکہ بنیادی طور پر اسے روس کے خلاف تحفظ فراہم کیا جا سکے، اگر آپ غور کریں تو ہم دراصل روس کے خلاف نیٹو کی حفاظت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے اتحاد میں امریکا کی شمولیت کی افادیت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ میں طویل عرصے سے اسے کچھ حد تک غیر ضروری سمجھتا رہا ہوں، مگر ہم اس پر کھربوں ڈالرز خرچ کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اب اس کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے، جس میں امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک شامل ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اتحاد سے واضح طور پر مایوس ہیں کیوںکہ کئی نیٹو اتحادیوں نے ایران کے معاملے میں امریکا اور اسرائیل کی حمایت اتنی نہیں کی جتنی وہ چاہتے تھے۔
قبل ازیں نیٹو نے ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے کہا کہ اتحادی ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے میں تعاون کریں گے۔