پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے پارٹی قیادت کو اسلام آباد میں ہر قسم کے احتجاج سے روکنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئندہ نئے فیصلے تک دارالحکومت میں کسی بھی قسم کا احتجاج نہیں کیا جائے گا، تاہم ملک بھر میں باقاعدہ احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کا یہ پیغام ان کے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے پارٹی قیادت تک پہنچایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ احتجاجی تحریک کا آغاز ملک کے مختلف شہروں سے کیا جائے۔ عمران خان کی ہدائت کی روشنی میں پارٹی قیادت نے 19 اپریل کو مردان سے پہلا احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے
ذرائع کے مطابق عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کی جانب سے جاری مذاکراتی عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل طویل ہوتا جا رہا ہے تاہم اس میں کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔
مزید ذرائع کے مطابق عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور پارٹی معاملات میں مؤثر حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد پارٹی کی احتجاجی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، جبکہ ملک بھر میں نئی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔