امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ان کوششوں کے دوران واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
ریپبلکن رہنما ساجد تارڑ نے ان چہ مگوئیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے دورہ اسلام آباد کے حوالے سے سنجیدہ بحث ہو رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام موجودہ جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے قبل ایرانی نمائندوں کے ساتھ دوسری باضابطہ ملاقات پر غور کر رہے ہیں۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پسِ پردہ پیش رفت جاری ہے اور اگر آنے والے دنوں میں ایران اور علاقائی ثالثوں (پاکستان اور دیگر برادر ممالک) کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو یہ بات چیت تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم مستقبل قریب میں امریکی اور ایرانی وفود کی براہِ راست ملاقات کا حتمی امکان تاحال غیر واضح ہے۔
واضح رہے کہ اگر صدر ٹرمپ اسلام آباد کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد اور ایران امریکا مصالحت میں اس کے کلیدی کردار کا اعتراف ہوگا۔ان اطلاعات نے عالمی سطح پر نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں کہ مشرقِ وسطٰی میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ پاکستان، اگر حقیقت بنتا ہے، تو یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہوگا۔ پاکستان نے حال ہی میں ’ملٹری ڈپلومیسی‘ اور سفارت کاری کے ذریعے ایران اور امریکا کو ایک میز پر لانے میں جو کردار ادا کیا ہے، اس نے وائٹ ہاؤس کو اسلام آباد کی اسٹرٹیجک اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ، جو اپنی غیر روایتی سفارت کاری کے لیے مشہور ہیں، پاکستان کو اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ تصور کر رہے ہیں۔ واشنگٹن میں ہونے والی یہ چہ مگوئیاں ظاہر کرتی ہیں کہ امریکا مشرقِ وسطٰی میں اپنے مفادات کے تحفظ اور جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلنے کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کر رہا ہے۔