وفاقی آئینی عدالت کا وراثت کے حقوق سے متعلق تاریخی فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت کا وراثت کے حقوق سے متعلق تاریخی فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے وراثت کے حقوق سے متعلق تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ باپ سے قبل وفات پانے والی بیٹی کے ورثاء بھی وراثتی حقوق کے حقدار ہیں اور ان کے حقوق بحال کیے جاتے ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار ورثاء کی فریق مقدمہ بننے کی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ وراثتی حق فوری طور پر پیدا ہوتا ہے اور اسے محض تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔عدالت کے مطابق ایسے معاملات میں جہاں بیٹی باپ کے انتقال سے پہلے وفات پا جائے، اس کے قانونی ورثاء کو بھی حق حاصل ہوتا ہے اور انہیں مقدمے میں لازمی طور پر فریق بنایا جانا چاہیے۔درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر پیش ہوئے جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ریونیو ریکارڈ میں غلطیوں کے باعث ورثاء چھہتر سال تک اپنے جائز حق سے محروم رہے۔

 یہ بھی پڑھیں : وفاقی آئینی عدالت کا سرکاری ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق اہم فیصلہ آگیا

عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس مقدمے میں ایک پورے قانونی سلسلے کو غیر منصفانہ طور پر محروم رکھا گیا۔ عدالت نے کنسولیڈیشن کے عمل کو ناقص قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ ورثاء کو مقدمے میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے حقوق کا مؤثر دفاع کر سکیں۔فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ انصاف کی راہ میں تکنیکی نکات کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔یاد رہے کہ یہ مقدمہ سردار بیگم کے ورثاء سے متعلق تھا جنہیں اپنے حق کے حصول کے لیے طویل قانونی جدوجہد کرنا پڑی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *