مریم نواز نے کاشتکاروں کیلئے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے فوری طور پر 3500 روپے فی من کے حساب سے گندم کی خریداری شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
انہوں نے کاشتکاروں کو 6 ارب روپے مالیت کا باردانہ مفت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ گندم کی خریداری کے عمل کو آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔پنجاب میں گندم خریداری سے متعلق ایک خصوصی اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیراعلیٰ مریم نواز نے کی۔
اجلاس میں گندم خریداری، باردانہ کی تقسیم اور زرعی سہولتوں کے مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسان کارڈ رکھنے والے کاشتکاروں سے گندم ترجیحی بنیادوں پر خریدی جائے گی اور 3500 روپے فی من کے حساب سے ادائیگی 72 گھنٹوں کے اندر یقینی بنائی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے صوبائی اور ڈویژنل سطح پر نگرانی کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں گی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کسان کارڈ کے ذریعے اربوں روپے کے قرضوں کا اجراء کیا جا چکا ہے اور لاکھوں کاشتکار اس نظام میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے رجسٹریشن کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دی۔مزید بتایا گیا کہ سبز ٹریکٹر اسکیم کے تحت ہزاروں ٹریکٹر کاشتکاروں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ ہدف کی تکمیل کے لیے مزید اقدامات جاری ہیں۔
اس اسکیم سے زرعی مشینری کی مقامی صنعت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کاشتکار کو ہرگز نقصان نہیں ہونے دے گی اور زرعی ترقی کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں زرعی شعبے میں نمایاں بہتری لائی جائے گی اور کسان کی خوشحالی اولین ترجیح ہے۔