اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار ختم یا محدود کیا جائے ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار ختم یا محدود کیا جائے ، پاکستان

پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو اختیار کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جسے موجودہ عالمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الحکومتی مذاکرات کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل میں بار بار پیدا ہونے والا تعطل دراصل مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو اختیار کے ناجائز استعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اختیار عالمی امن و سلامتی کے قیام میں سنجیدہ رکاوٹ بن چکا ہے اور اس کے باعث اہم عالمی مسائل حل طلب رہ جاتے ہیں۔

عاصم افتخار احمد واضح کیا کہ ویٹو اختیار موجودہ دور کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور ایک فرسودہ نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ویٹو کے منفی اثرات واضح ہیں جبکہ دوسری جانب نئے مستقل اراکین کو یہی اختیار دینے کی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، جو ایک کھلا تضاد ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں چھٹی بار غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی

پاکستانی مندوب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ یا تو ویٹو اختیار کو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا پھر اس کے استعمال کو سخت قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جائے تاکہ اس کا بے جا استعمال روکا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت ویٹو اختیار میں توسیع یا نئے مستقل اراکین کو یہ اختیار دینے کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس سے عالمی نظام مزید غیر متوازن اور پیچیدہ ہو جائے گا۔عاصم افتخار احمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ویٹو کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اس سلسلے میں مؤثر کردار دیا جائے تاکہ عالمی فیصلے زیادہ منصفانہ اور نمائندہ ہوں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *