قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پاکستان میں موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز کے بوجھ کو کم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ اس اقدام سے آئندہ وفاقی بجٹ میں مہنگے موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں مہنگے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں اضافے اور ان پر عائد ٹیکسز کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر صارفین کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 500 ڈالر سے زائد مالیت کے درآمدی فونز پر 76 ہزار روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ 700 سے 750 ڈالر والے فونز پر ٹیکس کی شرح 55 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پریمیم فونز پر 18 فیصد جی ایس ٹی کے علاوہ تقریباً 11,500 روپے کا ودہولڈنگ ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔
کمیٹی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے فونز پر ٹیکس کی شرح محض 25 فیصد ہے، تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اور انہوں نے سیلز ٹیکس کے ساتھ انکم ٹیکس وصول کرنے کی منطق پر سوال اٹھایا، اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صارفین کے لیے بوجھ بن رہا ہے۔
ایف بی آر حکام نے واضح کیا کہ فی الحال 18 فیصد جی ایس ٹی یا 11,500 روپے کے ودہولڈنگ ٹیکس میں فوری کمی کی گنجائش نہیں ہے، تاہم بجٹ سازی کے عمل میں ان ٹیکسز کو معقول بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ حکومت اگلے وفاقی بجٹ میں ایک نئی موبائل فون پالیسی پیش کرے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے اور صارفین کو ریلیف مل سکے۔