مشرقِ وسطیٰ کے سمندری محاذ پر کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے، جہاں ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے سخت بیان میں واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے جاری ناکہ بندی کے ساتھ یہ عالمی آبی گزرگاہ کھلی نہیں رہ سکتی اور اب یہاں سے گزرنا صرف ایران کی مرضی اور اجازت پر منحصر ہوگا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بحری بیڑے ایرانی بندرگاہوں کا سختی سے محاصرہ کیے ہوئے ہیں اور اب تک 21 ایسے تجارتی بحری جہازوں کو ایرانی حدود میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روک دیا گیا ہے جنہوں نے امریکی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے اپنا رخ واپس ایران کی طرف موڑ لیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
تجزیاتی ادارے ‘کپلر’ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں صرف 8 تجارتی جہاز اس گزرگاہ سے گزرے ہیں، جو کہ معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ٹریفک ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ دونوں ممالک نے جزوی طور پر گزرگاہ کھولنے کا اشارہ دیا ہے، لیکن تجارتی برادری کا اعتماد بحال ہونے میں ہفتوں نہیں بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے مزید واضح کیا کہ دشمن قوتوں کے جنگی جہازوں کو یہاں سے گزرنے کا کوئی حق نہیں اور اگر لبنان یا خطے کی صورتحال میں تبدیلی آئی تو اس عارضی طور پر کھلی گزرگاہ کو فوری بند کیا جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین سمندری شریان ہے جہاں سے عالمی خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ تنازع کی جڑیں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں پیوست ہیں۔
امریکا نے تہران کی اقتصادی شہ رگ کاٹنے کے لیے اس کی بندرگاہوں کا عملی محاصرہ شروع کر رکھا ہے، جس کے جواب میں ایران اپنے جغرافیائی مقام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پوری عالمی سپلائی چین کو مفلوج کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
‘کپلر’ جیسی تجزیاتی فرموں کا انتباہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو عالمی توانائی کی قیمتیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں اور سپلائی کی یہ تنگی مہینوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔