پاکستان کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے اسلامی جمہوریہ ایران کا 3 روزہ انتہائی اہم سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں خطے میں امن و استحکام کا فروغ اور سفارتی روابط کو نئی بلندیوں تک لے جانا تھا۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران میں مصروف دن گزارے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہ ہی سے ہونے والی ملاقاتوں میں جاری سفارتی کوششوں اور دیرپا استحکام کے حصول پر اتفاق کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر واضح کیا کہ موجودہ حالات میں مسائل کے حل کے لیے مکالمہ، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔
انہوں نے ایرانی قیادت کی جانب سے پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ 18 اپریل 2026 کو مکمل ہونے والا یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
آبنائے ہرمز میں جاری بحری ناکہ بندی اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران و امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان، جو ایران کا پڑوسی اور امریکا کا اہم اتحادی رہا ہے، اس وقت خطے میں ’ثالث‘ اور ’امن کار‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بطور چیف آف ڈیفنس اسٹاف یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی اور سفارتی طاقت کو خطے میں جنگ روکنے اور اقتصادی استحکام لانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تہران میں ہونے والی یہ ملاقاتیں آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور علاقائی جنگ بندی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔