ایران میں تقریباً 50 دن قبل شروع ہونے والی جنگ اور حالیہ بحران نے عالمی توانائی کی مارکیٹ کو جدید تاریخ کے سب سے بڑے دھچکے سے دوچار کر دیا ہے۔
رائٹرز اور عالمی تجزیہ کاروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران اب تک 50 بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کا خام تیل پیدا نہیں ہو سکا ہے، جس کے منفی اثرات عالمی معیشت پر مہینوں اور برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق فروری کے آخر میں بحران کے آغاز سے اب تک 500 ملین بیرل سے زیادہ خام تیل اور کنڈینس ایٹ عالمی مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکا، جو سپلائی میں تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ نقصان اس قدر بڑا ہے کہ یہ عالمی سطح پر 10 ہفتوں کے لیے ہوائی جہازوں کے ایندھن کی طلب، یا 11 دن تک دنیا بھر کی تمام گاڑیوں کے سفر کو روکنے کے برابر ہے۔ مزید برآں یہ مقدار امریکی فوج کے لیے تقریباً 6 سال کے ایندھن کی کھپت کے مساوی ہے۔
سفارتی محاذ پر پیش رفت کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اب ’آبنائے ہرمز‘ کو بحری ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یقین ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ’جلد‘ طے پا جائے گا، تاہم انہوں نے کسی حتمی وقت کی وضاحت نہیں کی۔
اس بحران نے خلیجی عرب ممالک کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جہاں مارچ کے مہینے میں خام تیل کی پیداوار میں یومیہ 8 ملین بیرل کا نقصان دیکھا گیا۔ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک سے جیٹ فیول کی برآمدات جو فروری میں 19.6 ملین بیرل تھیں، مارچ اور اپریل میں کم ہو کر محض 4.1 ملین بیرل رہ گئی ہیں۔
واضح رہے کہ فروری 2026 کے آخر میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس وقت جنگ کی شکل اختیار کر لی جب بحری حدود اور پابندیوں کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔
اس جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا، جس سے نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک کی برآمدات بھی رک گئیں۔ پاکستان، جس نے اس پورے بحران میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، اب اس کوشش میں ہے کہ صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان ہونے والے ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد میں حتمی شکل دی جائے۔
20 اپریل 2026 تک کی صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کھلنے سے کچھ ریلیف ملا ہے، لیکن 50 دن کے اس تعطل نے عالمی توانائی کے نقشے پر وہ زخم چھوڑے ہیں جنہیں بھرنے میں طویل وقت درکار ہوگا۔