مردان پی ٹی آئی کا ایک بار پھر ’فلاپ پاورشو‘، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بڑا چیلنج، شہری باربار احتجاج سے تنگ

مردان پی ٹی آئی کا ایک بار پھر ’فلاپ پاورشو‘، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بڑا چیلنج، شہری باربار احتجاج سے تنگ

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مردان میں’پاورشو‘ ایک بار پھر بری طرح فلاپ ہو گیا ہے، جہاں سیاسی گہما گہمی پیدا ہوئی، وہیں انتظامیہ کے سخت اقدامات اور دکانداروں پر حملوں نے حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اس ‘پاور شو’ کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں قیادت کی جانب سے کارکنوں کو لانے کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے، جبکہ صوبائی دارالحکومت پشاور کی شاہراہیں بھی غیر معمولی طور پر سنسان دکھائی دیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کوہاٹ جلسہ، سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال

مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے جوائنٹ سیکرٹری اسرار اللہ خان نے اس صورتحال پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اس وقت جلسوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟۔

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں صحت اور تعلیم کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے اور عوام اب ان جلسوں سے تنگ آ کر اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو سیاسی شعبدہ بازی کے بجائے عوامی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے۔

دوسری جانب، مردان کے مقامی تاجروں اور دکانداروں نے انتظامیہ کے رویے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 8 سے 10 سال سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے انہیں شدید تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایک شہری کا کہنا ہے کہ غیر ضروری مظاہروں میں حصہ لینے کے بجائے اپنے کام اور روزگار پر توجہ دینی چاہیے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ان کے علاقے میں کوئی نمایاں ترقی دیکھنے میں نہیں آئی، پشاور کے رہائشی نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے احتجاج کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا۔

انتظامیہ نے جلسے کے نام پر دکانیں خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس سے تاجروں کا کروڑوں روپے کا سامان ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ دکانداروں کے مطابق پہلے انہیں سامان اندر رکھنے کا کہا گیا اور اب جگہ خالی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے ان کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے قائم ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں صوبے کو شدید مالی اور انتظامی بحران کا سامنا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت ایک طرف وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہیں تو دوسری طرف ان پر صوبے کے اندرونی مسائل، بالخصوص صحت کارڈ اور تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔

مردان کا جلسہ دراصل اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ایک کوشش تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے تاجروں کے ساتھ برتاؤ اور اپوزیشن کے مؤثر پروپیگنڈے نے اسے ایک متنازع ایونٹ بنا دیا ہے۔

جڑواں شہروں میں سفارتی سرگرمیوں اور عالمی دباؤ کے بیچ، صوبائی سطح پر اس طرح کے پاور شوز حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *