اسلام آباد کے ریڈ زون میں سکیورٹی اور انتظامی صورتحال کے پیش نظر آج وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آج ورک فرام ہوم کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
یہ فیصلہ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے بعد کیا گیا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام متعلقہ عملے کو اپنے اپنے مقامات پر موجود رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت نے بھی آج کی عدالتی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریڈ زون میں محدود نقل و حرکت کے باعث آج کوئی سماعت نہیں ہوگی اور چیف جسٹس کی ہدایت پر ایک روزہ تعطیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، ورکنگ دن کم کرنے اور ورک فرام ہوم پلان تیار
اس کے ساتھ ہی آج کی کاز لسٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ عدالتی عملے کو گھروں سے ہی اپنے فرائض انجام دینے کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم متعلقہ افسران اپنی تعیناتیوں پر موجود رہیں گے اور انتظامی امور بدستور جاری رہیں گے۔
اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی آج بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رجسٹرار آفس کے مطابق یہ اقدام ریڈ زون کی بندش اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مشکل سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں :ورک فرام ہوم ویزاکی پیشکش کرنے والے 10 بہترین ممالک
مجموعی طور پر دارالحکومت میں آج سرکاری امور کا نظام غیر معمولی انداز میں چلایا جا رہا ہے جہاں دفاتر کی سرگرمیاں محدود ضرور ہیں لیکن انتظامی ڈھانچہ فعال رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن ہو سکے۔

