ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں ایرانی قیادت نے واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں کسی بھی قسم کی بات چیت قبول نہیں کی جائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ایسے مذاکرات جن میں طاقت کا استعمال یا دھمکی شامل ہو، وہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ ۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ مذاکراتی ٹیبل کو سرینڈر ٹیبل میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں،حقیقی مذاکرات وہ ہوتے ہیں جن میں دونوں فریق برابر کی بنیاد پر بیٹھیں نہ کہ ایک فریق دوسرے پر اپنی مرضی مسلط کرے۔
یہ بھی پڑھیں :مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے،کئی اہم نکات پر اختلافات ہیں،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
اگر کسی قسم کی فوجی کارروائی یا بحری دباؤ جاری رہا تو مذاکرات کی فضا مزید متاثر ہوگی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بیرونی دباؤ اور غیر حقیقی مطالبات کسی صورت قابل قبول نہیں
اور بعض تجاویز محض یکطرفہ سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جوہری امور سمیت حساس معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ بیرونی دباؤ کے تحت نہیں کیا جائے گا۔

