خیبرپختونخوا میں متحدہ علماء بورڈ علماء، مدارس اور حکومت کے درمیان اعتماد،ہم آہنگی کا مضبوط ذریعہ بن چکا

خیبرپختونخوا میں متحدہ علماء بورڈ علماء، مدارس اور حکومت کے درمیان اعتماد،ہم آہنگی کا مضبوط ذریعہ بن چکا

متحدہ علماء بورڈ کا پلیٹ فارم اپنے قیام کے بعد سے ہی اہلِ علم،آئمہ کرام اور مدارسِ دینیہ کے لیے ایک مؤثر اور نمائندہ فورم کے طور پر سامنے آیا ہےاس پلیٹ فارم کی بدولت مدارس اور محراب و منبر کے درمیان پائی جانے والی دوریاں اور غلط فہمیاں بڑی حد تک ختم ہو چکی ہیں اور ایک مثبت، متوازن اور حقیقت پسندانہ تصویر حکومتی اداروں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔

متحدہ علماء بورڈ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام مکاتبِ فکر،مسالک یعنی دیوبند مکتبہ فکر کیساتھ ،بریلوی مکتبہ فکر ،اھل حدیث حضرات، اور اھل تشیع حضرات نمائندگی سمیت اھل سنت والجماعت وتحریک ختم نبوت ودیگر تمام مکتبہ فکر کی صوبائی سطح پر یعنی صوبہ بھر کی ڈویژن سے جامع نمائندگی موجود ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تمام دینی تعلیمی بورڈز اور اتحاد تنظیماتِ مدارس کے صوبائی ذمہ داران بھی اس کا حصہ ہیں اور اس کیساتھ صوبہ بھر کے تمام بڑے جامعات مدارس کے زمہ داران بھی شامل ہیں ،یہی جامع نمائندگی اس پلیٹ فارم کو ایک حقیقی ترجمان بناتی ہے، جو مدارس اور علماء کے اجتماعی موقف کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔

وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمٰن کو مدارس جسٹریشن بل پر مذاکرات کی دعوت دیدی

یہ بورڈ نہ صرف مدارس اور حکومت کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اس نے ان غلط فہمیوں کے ازالے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے جو ماضی میں مدارس کے حوالے سے پائی جاتی تھیں، مدارس کا حقیقی، تعمیری اور اصلاحی کردار اجاگر کرنا اس پلیٹ فارم کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔

اتحاد تنظیماتِ مدارس کے صوبائی ذمہ داران نے ہر سطح پر مدارس کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ ان میں مدارس کی رجسٹریشن سول سوسائٹی ایکٹ 1860 کے تحت ،بینک اکاؤنٹس کا منجمد ہونا یا نہ کھولنا، مدارس ڈیٹا فارم، آڈٹ کے مسائل اور دیگر انتظامی چیلنجز وامور وغیرہ شامل ہیں، ان تمام معاملات میں متحدہ علماء بورڈ نے مربوط حکمتِ عملی اور مسلسل رابطہ کاری کے ذریعے حکومت تک مؤثر آواز پہنچائی ہے۔

چونکہ متحدہ علماء بورڈ صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک نوٹیفائیڈ مشاورتی فورم ہے، اس لیے اس کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے اور ایک قانونی حیثیت رکھتا ہے جیسے کہ مرکز میں اسلامی نظریاتی کونسل اور قرآن بورڈ اور روئت ھلال کمیٹیاں ودیگر متعلقہ مذھبی فورم وغیرہ اس کی اس پلیٹ فارم نے اجتماعی مسائل کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ مثال کے طور پر آئمہ کرام/ڈسٹرکٹ /تحصیل خطباء کے مسائل کو اجاگر کرنا اور اس کے لئے اقدامات اس کے علاؤہ علماء کرام کے لئے حادثاتی اور ناگہانی آفات اور امور میں تعاون و رہنمائی ۔

مساجد و مدارس کے لیے فلاحی و ترقیاتی اسکیموں کا اجرا جیسے سولرایزیشن اور دیگر اسکیموں کا اجراء ،مدارس میں کمپیوٹر لیبز اور لائبریریوں کا قیام ضم شدہ اضلاع میں منہدم مدارس کی تعمیر نو،بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے عملی کردار امن وامان کے حوالے سے اقدامات ،محرم الحرام اور ربیع الاول اور دیگر امور میں مزید برآں، متحدہ علماء بورڈ نے دینی و مذہبی شعبوں میں ہمہ جہت معاونت فراہم کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :علماء کنونشن کا انکھوں دیکھا حال, علماء کنونشن میں کیا ہوا ؟ علامہ واحدی کے تہلکہ خیز انکشافات

خواہ وہ ختمِ نبوت کا معاملہ ہو، دعوت و تبلیغ کی سرگرمیاں ہوں یا ائمہ کرام اور مہتممینِ مدارس کی رہنمائیہر میدان میں اس پلیٹ فارم کی موجودگی اور فعالیت قابلِ تحسین ہے،متحدہ علماء بورڈ کا بنیادی منشور یہی ہے کہ مدارس اور محراب و منبر کی حقیقی اور مثبت تصویر کو اجاگر کیا جائے اور اسے حکومتی اداروں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے۔

اسی کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق مدارس میں تربیتی ورکشاپس، حالاتِ حاضرہ سے آگاہی، مطالعاتی اور جسمانی و ذہنی نشوونما کے پروگرامز کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے،آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ متحدہ علماء بورڈ نہ صرف ایک نمائندہ فورم ہے بلکہ یہ علماء، مدارس اور حکومت کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور تعاون کا ایک مضبوط ذریعہ بن چکا ہےاور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے وکردار ہے۔

author

Related Articles