ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے لیے کسی قسم کی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی
خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، امریکہ اپنی بنیادی شرائط پر قائم ہے اور ان میں کسی بڑی نرمی کا امکان نہیں ۔
البتہ سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے لچک ضرور دکھائی گئی ہے تاکہ کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق ایران پر معاشی پابندیوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کے باعث تہران ایک بار پھر مذاکرات کی طرف مائل ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہیں،مذاکرات کا اگلامرحلہ ممکنہ طور پراسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان وائٹ ہاؤس
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے عسکری دباؤ بھی برقرار ہے اور بحری ناکا بندی کے ذریعے ایران کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے
تاکہ اسے سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیز فائر کے حوالے سے ابھی تک کوئی واضح ٹائم فریم طے نہیں ہوا لیکن سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔
کیرولین لیوٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں
جبکہ امریکہ ایک متحد اور واضح مؤقف کا خواہاں ہے تاکہ بات چیت مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اپنے مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور کسی دباؤ میں آ کر اپنی شرائط تبدیل نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں
خاص طور پر معاشی پابندیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے

