آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق خلیج میں اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا عمل نہایت پیچیدہ اور وقت طلب ثابت ہو سکتا ہے، جس میں چھ ماہ تک کا عرصہ لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی فوری طور پر شروع ہونے کے بجائے ممکنہ طور پر جاری جنگ کے خاتمے کے بعد ہی عملی شکل اختیار کرے گی

  موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کو خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران سے مذاکرات،امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہا ، امریکی ایجنسی کا دعوی

امریکی اخبار کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کے روز ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ارکان کو ایک خفیہ بریفنگ کے دوران اس حوالے سے آگاہ کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بارودی سرنگوں کی موجودگی نہ صرف بحری آمدورفت کے لیے شدید خطرہ ہے بلکہ عالمی تجارت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی صفائی کے لیے انتہائی احتیاط اور جدید ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ ایران ملاقات اچھی رہی، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا،جوہری پروگرام ترک نہ کرنے کی پوزیشن بڑی رکاوٹ بنی رہی، ٹرمپ

ذرائع کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، جس کے باعث صفائی کے مشن کو شروع کرنا قبل از وقت اور خطرناک ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

یاد رہے خطے میں جاری کشیدگی، معاشی دباؤ اور عسکری سرگرمیوں نے صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے، اور عالمی برادری کی نظریں اس اہم گزرگاہ کی بحالی اور محفوظ بحری آمدورفت پر مرکوز ہیں تاکہ توانائی کی فراہمی میں کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *