برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے دروازے کھلے،دبائو قبول نہیں کرینگے،ایران

برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے دروازے کھلے،دبائو قبول نہیں کرینگے،ایران

 ایران میں سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات کی گردش کرتی خبروں پر ایرانی صدارتی دفتر نے واضح اور دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے ان تمام قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے

ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کی اعلیٰ قیادت نہ صرف متحد ہے بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے

  اندرونی معاملات سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد محض تفرقہ پیدا کرنا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا ایران مذاکرات میں تعطل پر چین کا ردعمل بھی آگیا

ترجمان ایرانی صدارتی آفس نے کہا کہ ایرانی قیادت کے درمیان اتحاد مثالی نوعیت کا ہے اور تمام اہم فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں

 بعض حلقوں کی جانب سے اختلافات کا تاثر دینا دراصل ایک منظم کوشش ہے جس کا مقصد ایران کی داخلی یکجہتی کو متاثر کرنا ہے

  ایسی تمام کوششیں ناکام ہوں گی کیونکہ قیادت ایک پیج پر ہے اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ایران عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں توازن اور وقار کو مقدم رکھتا ہے اسی تناظر میں مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے ہیں

لیکن یہ عمل برابری عزت اور معقولیت کی بنیاد پر ہی آگے بڑھے گا ایران کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی کو اس وقت تک برقرار رکھا جائے گا

جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا۔

 یہ بھی پڑھیں :وزیر اعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ

انہوں نے اس عمل کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ جلد متوقع ہے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دور جمعہ کے روز ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ موجودہ ناکہ بندی برقرار رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری سطح پر بھی چوکسی برقرار رکھی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *