عالمی بینک نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں آئندہ 10 سے 15 سال کے دوران لاکھوں نوجوانوں کو نوکریاں نہ ملنے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔
واشنگٹن میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کا سالانہ اجلاس ہوا، جس میں روزگار کو سب سے بڑا معاشی مسئلہ قرار دیا گیا ، اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کا کہنا تھا کہ روزگار غربت کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مزید کم ہو سکتے ہیں ، ترقی پذیر ممالک میں اگلے 10 سے 15 سال کے دوران تقریباً 1.2 ارب نوجوان روزگار کے قابل ہوں گے، جس سے روزگار کی طلب میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق رکن ممالک کے لیے 80 سے 100 ارب ڈالر تک امداد کی توقع ہے، عالمی بینک نے فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ طویل مدتی معاشی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے، ساتھ ہی رکن ممالک میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کو ترقی کی اہم کنجی قرار دیا گیا ہے۔
عالمی بینک نے متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے ہنگامی اقدامات جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
اس کے علاوہ عالمی بینک نے روزگار بڑھانے کے پانچ اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے جس میں توانائی اور انفرااسٹرکچر کے منصوبے روزگار کے لیے انتہائی اہم قرار دیے گئے ہیں۔
سیاحت کے فروغ کو معیشت اور روزگار میں اضافے کا ذریعہ بتایا گیا ہے جبکہ زراعت اور ایگری بزنس میں بھی بڑے مواقع موجود ہیں۔ اسی طرح صحت کا شعبہ بھی روزگار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔